5 اشعار

میری تقدیر میں جلنا ہے تو جل جاؤں گا

Meri taqdeer mein jalna hai to jal jaaoonga

میری تقدیر میں جلنا ہے تو جل جاؤں گا

«میری تقدیر میں جلنا ہے تو جل جاؤں گا» ساحر بھوپالی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی» میں 25 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 35 سیکنڈ ہے۔

میری تقدیر میں جلنا ہے تو جل جاؤں گاتیرا وعدہ تو نہیں ہوں کہ بدل جاؤں گا

رحم آیا نہ اگر تجھ کو تو اک دن میں بھیسر کو رکھ کر ترے قدموں پہ مچل جاؤں گا

درد گھبرا کے یہ کہتا ہے شب فرقت میںآہ بن کر ترے پہلو سے نکل جاؤں گا

سوز بھر دو مرے سینے میں غم الفت کامیں کوئی موم نہیں ہوں جو پگھل جاؤں گا

مجھ کو سمجھاؤ نہ ساحرؔ کہ میں اک دن خود ہیٹھوکریں کھا کے محبت میں سنبھل جاؤں گا

— ساحر بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں