9 اشعار

اٹھا کے بار حقارت ہنسی خوشی میں نے

Utha Ke Bar-e-Haqarat Hansi Khushi Main Ne

اٹھا کے بار حقارت ہنسی خوشی میں نے

«اٹھا کے بار حقارت ہنسی خوشی میں نے» ساحر بھوپالی کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «وفا تو کیسی جفا بھی نہیں ہے اب ہم پر ساحر بھوپالی» میں 26 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

اٹھا کے بار حقارت ہنسی خوشی میں نےنگاہ ناز کی نفرت بھی لوٹ لی میں نے

خود اپنی ذات سے بھی کر کے دشمنی میں نےنباہ دی غم فرقت سے دوستی میں نے

تڑپ کے پرسش غم پر وہ آہ کی میں نےدل تباہ کی تصویر کھینچ دی میں نے

شمع امید کی گل کر کے روشنی میں نےنشاط غم کی نئی راہ ڈھونڈھ لی میں نے

غضب ہے اس کو خبر تک نہ ہو کہ جس کے لئےتڑپ تڑپ کے شب غم گزار دی میں نے

کسی کے سوز محبت کی آنچ دے دے کرغم حیات کی رنگت نکھار دی میں نے

مزا ملا ہے تڑپنے کا جب سے فرقت میںترے کرم کی تمنا بھی چھوڑ دی میں نے

تماشا اپنی تباہی کا خوب دیکھ لیانثار کر کے ترے غم پہ ہر خوشی میں نے

فسانۂ غم فرقت نہ پوچھئے ساحرؔگزارنا تھی شب غم گزار دی میں نے

— ساحر بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں