7 اشعار

نگاہ شرمگیں سے جب محبت بٹ رہی ہوگی

Nigah-e-Sharmgeen Se Jab Mohabbat Bat Rahi Hogi

نگاہ شرمگیں سے جب محبت بٹ رہی ہوگی

«نگاہ شرمگیں سے جب محبت بٹ رہی ہوگی» ساحر بھوپالی کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «وفا تو کیسی جفا بھی نہیں ہے اب ہم پر ساحر بھوپالی» میں 26 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

نگاہ شرمگیں سے جب محبت بٹ رہی ہوگینہ جانے اس گھڑی کس کس کی بگڑی بن گئی ہوگی

وہ عالم کون سا ہوگا وہ دنیا کون سی ہوگیجہاں حد نظر تک زندگی ہی زندگی ہوگی

اسی صورت سے شاید زندگیٔ غم سنور جائےمرے حق میں تمہاری دشمنی بھی دوستی ہوگی

مجھے برباد کر کے بھی نہ ہوگی مہرباں مجھ پرخبر کیا تھی نگاہ ناز اتنی مطلبی ہوگی

تغافل کا تمہارے اب یہی انجام ہونا ہےتماشا میری بربادی کا دنیا دیکھتی ہوگی

تصور سے بھی اس کے کانپنے لگتا ہے دل میراجدائی کی گھڑی بھی کس قیامت کی گھڑی ہوگی

وہی وقت ہوگا اے ساحرؔ وفا کی کامیابی کاہر اک شے میں انہیں محسوس جب میری کمی ہوگی

— ساحر بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں