10 اشعار

وہ تشنگیٔ شوق بجھاتے تو بات تھی

Woh tashnagi-e-shauq bujhate to baat thi

وہ تشنگیٔ شوق بجھاتے تو بات تھی

«وہ تشنگیٔ شوق بجھاتے تو بات تھی» ساحر بھوپالی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 20 سیکنڈ ہے۔

وہ تشنگیٔ شوق بجھاتے تو بات تھیٹوٹے دلوں کی آس بندھاتے تو بات تھی

چھپ کر تباہیاں مری کیا دیکھتے ہیں آپپردہ الٹ کے سامنے آتے تو بات تھی

پامال گر ستم سے کیا بھی تو کیا کیالطف و کرم سے مجھ کو مٹاتے تو بات تھی

گر کی نظر نوازی تو کیا جوش حسن کواسرار دلنواز سکھاتے تو بات تھی

کر کے تباہ مجھ کو پشیماں ہوئے تو کیاکچھ دن وہ میرے ناز اٹھاتے تو بات تھی

رخ سے اگر نقاب الٹ بھی دیا تو کیاہستی کا میری پردہ اٹھاتے تو بات تھی

کیوں پھونک ڈالا آپ نے بے وجہ طور کوبرق جمال دل پہ گراتے تو بات تھی

شمع امید کس لئے گل کر دی آپ نےگر مشعل حیات بجھاتے تو بات تھی

بدمست کر کے چھوڑ دیا ہائے کیا کیاپھر سے وہ مجھ کو ہوش میں لاتے تو بات تھی

ساحرؔ اٹھائے ہاتھ دعا کے لئے تو کیاگر ہاتھ تم دعا سے اٹھاتے تو بات تھی

— ساحر بھوپالی