6 اشعار

توڑ لیں گے ہر اک شے سے رشتہ توڑ دینے کی نوبت تو آئے

Toṛ leñge har ek shai se rishta toṛ dene kī naubat to ā'e

توڑ لیں گے ہر اک شے سے رشتہ توڑ دینے کی نوبت تو آئے

«توڑ لیں گے ہر اک شے سے رشتہ توڑ دینے کی نوبت تو آئے» ساحر لدھیانوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

توڑ لیں گے ہر اک شے سے رشتہ توڑ دینے کی نوبت تو آئےہم قیامت کے خود منتظر ہیں پر کسی دن قیامت تو آئے

ہم بھی سقراط ہیں عہد نو کے تشنہ لب ہی نہ مر جائیں یاروزہر ہو یا مئے آتشیں ہو کوئی جام شہادت تو آئے

ایک تہذیب ہے دوستی کی ایک معیار ہے دشمنی کادوستوں نے مروت نہ سیکھی دشمنوں کو عداوت تو آئے

رند رستے میں آنکھیں بچھائیں جو کہے بن سنے مان جائیںناصح نیک طینت کسی شب سوئے کوئے ملامت تو آئے

علم و تہذیب تاریخ و منطق لوگ سوچیں گے ان مسئلوں پرزندگی کے مشقت کدے میں کوئی عہد فراغت تو آئے

کانپ اٹھیں قصر شاہی کے گنبد تھرتھرائے زمیں معبدوں کیکوچہ گردوں کی وحشت تو جاگے غم زدوں کو بغاوت تو آئے

— ساحر لدھیانوی