6 اشعار

طرب زاروں پہ کیا بیتی صنم خانوں پہ کیا گزری

Tarab-zāroñ pe kyā bītī sanam-khānoñ pe kyā guzarī

طرب زاروں پہ کیا بیتی صنم خانوں پہ کیا گزری

«طرب زاروں پہ کیا بیتی صنم خانوں پہ کیا گزری» ساحر لدھیانوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

طرب زاروں پہ کیا بیتی صنم خانوں پہ کیا گزریدل زندہ ترے مرحوم ارمانوں پہ کیا گزری

زمیں نے خون اگلا آسماں نے آگ برسائیجب انسانوں کے دل بدلے تو انسانوں پہ کیا گزری

ہمیں یہ فکر ان کی انجمن کس حال میں ہوگیانہیں یہ غم کہ ان سے چھٹ کے دیوانوں پہ کیا گزری

مرا الحاد تو خیر ایک لعنت تھا سو ہے اب تکمگر اس عالم وحشت میں ایمانوں پہ کیا گزری

یہ منظر کون سا منظر ہے پہچانا نہیں جاتاسیہ خانوں سے کچھ پوچھو شبستانوں پہ کیا گزری

چلو وہ کفر کے گھر سے سلامت آ گئے لیکنخدا کی مملکت میں سوختہ جانوں پہ کیا گزری

— ساحر لدھیانوی