6 اشعار

آنکھوں میں خواب اور رگ و پے میں خوں نہیں

Aankhon mein khwaab aur rag-o-pe mein khoon nahin

آنکھوں میں خواب اور رگ و پے میں خوں نہیںلیلیٰ و دشت ہے مگر اب وہ جنوں نہیں

یہ اضطراب اور بھی بڑھتا ہے روح میںاب خواب میں بھی مجھ کو میسر سکوں نہیں

تنکا سا بن کے رہ گئے ہیں سطح آب پرہم بہنا چاہتے تھے اے دریا پہ یوں نہیں

خالی پڑی ہوئی ہے مری کائنات دلغم بھی کوئی بچا ہوا اب کے دروں نہیں

طوفان و برشگال سے گو پرزہ پرزہ ہےکشتی کا بادبان مگر سر نگوں نہیں

آواز مر رہی ہے مگر شہر میں فگارؔکوئی ملول حرف کی میت پہ کیوں نہیں

— سلیم فگار