6 اشعار

کافر دن اور منکر راتیں کن وقتوں میں آ پہنچا ہوں

Kaafir din aur munkir raatein kin waqton mein aa pahuncha hoon

کافر دن اور منکر راتیں کن وقتوں میں آ پہنچا ہوںتحت الثرا میں لے جائیں گے جن لوگوں میں آ پہنچا ہوں

میرے دھندلے نقش دوبارا کچھ گہرے ہوتے جاتے ہیںچلتے پھرتے پہلی عمر کے بیتے دنوں میں آ پہنچا ہوں

اک امید ہے آنے والا وقت مجھے بھی دہرائے گالفظ و خیال و فکر میں ڈھل کر میں شعروں میں آ پہنچا ہوں

ان ذروں کی مٹھی میں بھی صد ہا خوابوں کی قبریں ہیںدل میں اتنے سوگ اٹھا کر کن رستوں میں آ پہنچا ہوں

جن میں کوئی رنگ محبت ابھرا نہیں ہے کوشش سے بھیاپنا شوق نظارہ لے کے کن آنکھوں میں آ پہنچا ہوں

تازہ ٹھنڈی سبز ہوائیں ہر اک موسم میں ہنستی تھیںاس منظر کو ڈھونڈتے آج میں ان گلیوں میں آ پہنچا ہوں

— سلیم فگار