6 اشعار

چمکتی اوس کی صورت گلوں کی آرزو ہونا

Chamakti os ki soorat, gulon ki aarzoo hona

چمکتی اوس کی صورت گلوں کی آرزو ہوناکسی کی سوچ میں رہنا کسی کی جستجو ہونا

وہ پتھر ہے پگھلنے میں ذرا سا وقت تو لے گاابھی ممکن نہیں ہے اس سے کوئی گفتگو ہونا

اسے میں دیکھتا جاؤں کہاں یہ بات آنکھوں میںنہیں آسان سورج کے مسلسل روبرو ہونا

اسے آتا ہے لمحوں میں بھی اپنے عکس کو بھرنانہ ہونا پاس لیکن پھر بھی میرے چار سو ہونا

تمہاری یاد کی بارش برستی ہے مرے دل پرمری آنکھوں کو آتا ہی نہیں ہے بے وضو ہونا

لہو میں بو گیا ہے قطرہ قطرہ سینکڑوں کانٹےہری رت میں بھی میرے صحن گل کا بے نمو ہونا

— سلیم فگار