6 اشعار

سہمے نحیف دریا کے دھارے کی بات کر

Sehme naheef darya ke dhaare ki baat kar

سہمے نحیف دریا کے دھارے کی بات کراب دشت بے کراں کے کنارے کی بات کر

دنیا کے مسئلوں میں مجھے بھی شریک رکھمیرے دریدہ دل کے بھی چارے کی بات کر

رہنے دے ذکر سود کسی اور وقت پرراہ وفا میں میرے خسارے کی بات کر

معیار کے نہ مجھ کو کم و بیش میں پرکھتجھ کو اگر قبول ہوں سارے کی بات کر

ہم بوریا نشین ترے شاہ بھی تو ہیںیا لوٹ جا یا ساتھ گزارے کی بات کر

اب آسمان سارا مری دسترس میں ہےانگلی اٹھا کسی بھی ستارے کی بات کر

— سلیم فگار