8 اشعار

در و دیوار سب اوندھے گریں گے

Dar-o-deewar sab aundhe girenge

در و دیوار سب اوندھے گریں گےپرانے گھر ہمیں روتے رہیں گے

بقا کے شہر میں جانے سے پہلےہم اپنے جسم کے اندر مریں گے

شعور و حرف بھی جو چھن گئے تواکیلے دشت میں ہم کیا کریں گے

کہاں تک جسم کے دے کر نوالےزمیں کا پیٹ ہم بھرتے رہیں گے

سحر کی روشنی پھوٹے نہ جب تکاندھیری شب کی آنکھوں میں جلیں گے

ہمارے بعد اس کمرے کے شایدیہ پردے دیر تک ہلتے رہیں گے

میں لوٹا تو شجر دریا پرندےخوشی سے میرا ماتھا چوم لیں گے

فگارؔ اک دن مرے پیروں کے چھالےجو پھوٹے تو نئے رستے بنیں گے

— سلیم فگار