5 اشعار

بھوک افلاس سے تہذیبوں کے دل بوجھل ہو جاتے ہیں

Bhook iflaas se tehzeebon ke dil bojhal ho jaate hain

بھوک افلاس سے تہذیبوں کے دل بوجھل ہو جاتے ہیںکھیت اجڑ جائیں تو بستے آنگن جنگل ہو جاتے ہیں

وقت کا تپتا سورج سر پر آ کر جب بھی چمکتا ہےدریا سے انساں اکثر کیچڑ دلدل ہو جاتے ہیں

جس مٹی کی گود سے موسم پیڑ ثمر چھن جائیں وہاںانساں تتلی اور پرندے سب پاگل ہو جاتے ہیں

میں نے غربت اور مجبوری دیکھی ہے میں جانتا ہوںکیسے دھوپ کے منظر میں گیلے آنچل ہو جاتے ہیں

تم ہوتے ہو ساتھ مرے جب کوہ گراں سے موسم میںیوں لگتا ہے بوجھل دن اڑتے بادل ہو جاتے ہیں

— سلیم فگار