5 اشعار

فصل خزاں میں شاخ سے پتا نکال دے

Fasl-e-khizan mein shakh se patta nikal de

فصل خزاں میں شاخ سے پتا نکال دےسوکھے شجر سے کھینچ کے سایہ نکال دے

مجھ کو اماں ہو قریۂ وہم و گمان میںدے کر یقین دل سے تو خدشہ نکال دے

چاہے شرر سے پھونک دے سارے جہان کوچاہے جسے وہ آگ سے زندہ نکال دے

رہبر نہیں ہے اس سا کوئی دو جہان میںبحر رواں کو کاٹ کے رستہ نکال دے

بے جان پتھروں سے کرے زندگی کشیددیوار خشت و سنگ سے پودا نکال دے

— سلیم فگار