5 اشعار

زرد پتے کی طرح اڑتا ہوا جاتا ہے

Zard patte ki tarah udta hua jata hai

زرد پتے کی طرح اڑتا ہوا جاتا ہےدن مرا جانے کہاں بکھرا ہوا جاتا ہے

صبح اتری ہے تو افلاک سے عالم کا ہجومجسم کی قید میں پچھتاتا ہوا جاتا ہے

سانحہ جو بھی جنم لیتا ہے لمحہ لمحہخانۂ دل سے مرے ہوتا ہوا جاتا ہے

دو گھڑی بیٹھ مجھے آنکھ میں بھر لینے دےسرخ کیوں چاند سا یہ چہرہ ہوا جاتا ہے

دور نو روز سے ہر روز سہولت پا کرآدمی پہلے سے بھی تنہا ہوا جاتا ہے

— سلیم فگار