6 اشعار

کھو دئیے ہیں چاند کتنے اک ستارا مانگ کر

Kho diye hain chand kitne ik sitara maang kar

کھو دئیے ہیں چاند کتنے اک ستارا مانگ کرمطمئن ہیں کس قدر پھر بھی خسارہ مانگ کر

موج کے ہم راہ تھا تو سارا دریا ساتھ تھاہو گیا غرقاب لہروں سے کنارا مانگ کر

راکھ میں اب ڈھونڈھتا ہوں میں در و دیوار کوگھر دیا ہے آگ کو میں نے شرارہ مانگ کر

تیری مرضی ہو تو بھر کشکول دل خالی مرامیں نہیں لوں گا تجھے تجھ سے دوبارہ مانگ کر

اپنے پاؤں پر چلوں گا میں اپاہج تو نہیںراستے کٹتے نہیں ہیں یوں سہارا مانگ کر

خواب کی مٹی کو گوندھوں گا لہو سے میں فگارؔگھر بنانا ہی نہیں دھرتی سے گارا مانگ کر

— سلیم فگار