6 اشعار

ہر تذکرہ کتاب میں تفصیل سے ہوا

Har tazkira kitaab mein tafseel se hua

ہر تذکرہ کتاب میں تفصیل سے ہوامیرا سفر شروع ہی تکمیل سے ہوا

اس خاکداں پہ پھیلنے والا ہے ایک روزجس قہر کا ظہور کبھی نیل سے ہوا

ہر سمت گھومتی تھی یہاں رات جا بجاپھر دن تمہارے چہرۂ قندیل سے ہوا

اگتے ہیں ساحلوں پہ کسی پھول کی طرحکیسا یہ عشق طائروں کو جھیل سے ہوا

یہ جو تمہیں خراب نظر آ رہا ہوں میںپیدا یہ مسئلہ بھی کسی ڈھیل سے ہوا

اب دیکھیے اترتا ہے کیا آسمان سےاک فیصلہ تو پہلے ابابیل سے ہوا

— سلیم فگار