5 اشعار

رونق بزم دل سے رخصت مانگی تھی

Ronaq-e-bazm-e-dil se rukhsat maangi thi

رونق بزم دل سے رخصت مانگی تھیسبز رتوں میں خود سے ہجرت مانگی تھی

برف بنی جب کالی رات کی تنہائیمیں نے جلتے جسم کی حدت مانگی تھی

جنت کی ہر شے اس کرب سے واقف ہےپہلے مرد نے کیوں اک عورت مانگی تھی

اس قابیل سے ہم ہیں جس نے مقتل میںبار دگر سب نسل کی ذلت مانگی تھی

زر کے ڈھیر کے اک جانب کچھ پھول تھے اورشاہ وقت سے میں نے محبت مانگی تھی

— سلیم فگار