5 اشعار

اک لہر ملی اپنے بہاؤ سے نکل کر

Ek lehar mili apne bahao se nikal kar

اک لہر ملی اپنے بہاؤ سے نکل کرچوما ہے اسے میں نے بھی ناؤ سے نکل کر

روشن ہیں ترے شعلۂ صد رنگ میں ورنہہم کب کے بجھے ہوتے الاؤ سے نکل کر

میں سوچتا ہوں زخم اگر بھر گیا دل کایہ درد کہاں جائے گا گھاؤ سے نکل کر

بارانی علاقوں کی طرح آنکھوں کی عادتہم جائیں کہاں اپنے کٹاؤ سے نکل کر

میں دیکھتا ہوں اس لیے افلاک کی جانبکتنا سفر ہے ارضی پڑاؤ سے نکل کر

— سلیم فگار