15 اشعار

نرخ بالا کن کہ ارزانی ہنوز

Narqh Bala Kun Ke Arzani Hanooz

نرخ بالا کن کہ ارزانی ہنوز

«نرخ بالا کن کہ ارزانی ہنوز» سلیم کوثر کا کلام ہے، جسے گریس نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «‏⁧‫میں خودبھی تیرےاندھیروں پہ مُنکشف نہ ہوا(سلیم کوثر)» میں 24 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 12 سیکنڈ ہے۔

ابھی ابھی اک ہوا کا جھونکاجو تیرا لہجہ

جو تیرے گیتوں پہیلیوں کا امین بن کرسماعتوں کو

ہزار لفظوں کی داستانیں سنا گیا ہےابھی ابھی بے کراں سا لمحہ

جو کتنی صدیوں کا بوجھ اٹھائےگزر گیا ہے

جو میری آنکھوں میں سوئے منظر جگا گیا ہےابھی ابھی تیرا اک صحیفہ اک عہد بن کر

دیار دل میں اتر گیا ہےمرا بدن ریزہ ریزہ ہو کر بکھر گیا ہے

میں دیکھتا ہوںکہ نام تیرا

زبان تیریکلام تیرا

زمیں کی پستی سےآسماں کی بلندیوں تک

ہر آنے والے نصاب لمحے کاپیشوا ہے

میں سوچتا ہوںکہ تجھ پہ لکھوں

جو تجھ پہ لکھاتو حرف میرے

ہوا میں تحلیل ہو گئے ہیںمیں چاہتا ہوں

کہ تجھ کو سوچوںجو تجھ کو سوچا

تو ذات تیریپہیلیوں میں الجھ گئی ہے

— سلیم کوثر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں