8 اشعار

یہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیں

Yeh Log Jis Se Ab Inkaar Karna Chahte Hain

یہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیں

«یہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیں» سلیم کوثر کا کلام ہے، جسے مرزا جواد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «‏⁧‫میں خودبھی تیرےاندھیروں پہ مُنکشف نہ ہوا(سلیم کوثر)» میں 24 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

یہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںوہ گفتگو در و دیوار کرنا چاہتے ہیں

ہمیں خبر ہے کہ گزرے گا ایک سیل فناسو ہم تمہیں بھی خبردار کرنا چاہتے ہیں

اور اس سے پہلے کہ ثابت ہو جرم خاموشیہم اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہتے ہیں

یہاں تک آ تو گئے آپ کی محبت میںاب اور کتنا گنہ گار کرنا چاہتے ہیں

گل امید فروزاں رہے تری خوشبوکہ لوگ اسے بھی گرفتار کرنا چاہتے ہیں

اٹھائے پھرتے ہیں کب سے عذاب در بدریاب اس کو وقف رہ یار کرنا چاہتے ہیں

جہاں کہانی میں قاتل بری ہوا ہے وہاںہم اک گواہ کا کردار کرنا چاہتے ہیں

وہ ہم ہیں جو تری آواز سن کے تیرے ہوئےوہ اور ہیں کہ جو دیدار کرنا چاہتے ہیں

— سلیم کوثر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں