6 اشعار

اجنبی حیران مت ہونا کہ در کھلتا نہیں

Ajnabi Hairaan Mat Hona Ke Dar Khulta Nahin

اجنبی حیران مت ہونا کہ در کھلتا نہیں

«اجنبی حیران مت ہونا کہ در کھلتا نہیں» سلیم کوثر کا کلام ہے، جسے ریبل نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «‏⁧‫میں خودبھی تیرےاندھیروں پہ مُنکشف نہ ہوا(سلیم کوثر)» میں 24 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

اجنبی حیران مت ہونا کہ در کھلتا نہیںجو یہاں آباد ہیں ان پر بھی گھر کھلتا نہیں

راستے کب گرد ہو جاتے ہیں اور منزل سرابہر مسافر پر طلسم رہ گزر کھلتا نہیں

دیکھنے والے تغافل کار فرما ہے ابھیوہ دریچہ کھل گیا حسن نظر کھلتا نہیں

جانے کیوں تیری طرف سے دل کو دھڑکا ہی رہااس تکلف سے تو کوئی نامہ بر کھلتا نہیں

انتظار اور دستکوں کے درمیاں کٹتی ہے عمراتنی آسانی سے تو باب ہنر کھلتا نہیں

ہم بھی اس کے ساتھ گردش میں ہیں برسوں سے سلیمؔجو ستارہ ساتھ رہتا ہے مگر کھلتا نہیں

— سلیم کوثر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں