8 اشعار

پھر جی اٹھے ہیں جس سے وہ امکان تم نہیں

Phir Ji Uthe Hain Jis Se Woh Imkaan Tum Nahin

پھر جی اٹھے ہیں جس سے وہ امکان تم نہیں

«پھر جی اٹھے ہیں جس سے وہ امکان تم نہیں» سلیم کوثر کا کلام ہے، جسے انتظار حسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «‏⁧‫میں خودبھی تیرےاندھیروں پہ مُنکشف نہ ہوا(سلیم کوثر)» میں 24 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

پھر جی اٹھے ہیں جس سے وہ امکان تم نہیںاب جو بھی کر رہا ہے یہ احسان تم نہیں

مجھ میں بدل رہا ہے جو اک عالم خیالاس لمحۂ جنوں کے نگہبان تم نہیں

بجھتے ہوئے چراغ کی لو جس نے تیز کیوہ اور ہی ہوا ہے مری جان تم نہیں

پھر یوں ہوا کہ جیسے گرہ کھل گئی کوئیمشکل تو بس یہی تھی کہ آسان تم نہیں

تم نے سنی نہیں ہے صدائے شکست دلہم جھیلتے رہے ہیں یہ نقصان تم نہیں

تم سے تو بس نباہ کی صورت نکل پڑیجس سے ہوئے تھے وعدہ و پیمان تم نہیں

خوش فہمیوں کی بات الگ ہے مگر یہ گھرجس کے لیے سجا ہے وہ مہمان تم نہیں

یہ عالم ظہور ہے ہجرت زدہ سلیمؔہم بھی دکھی ہیں صرف پریشان تم نہیں

— سلیم کوثر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں