5 اشعار

جو سچی بات کرنا تھا، کہاں ہے وہ

Jo sachchi baat karna tha, kahan hai woh

جو سچی بات کرنا تھا، کہاں ہے وہ

«جو سچی بات کرنا تھا، کہاں ہے وہ» سلیم کوثر کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «‏⁧‫میں خودبھی تیرےاندھیروں پہ مُنکشف نہ ہوا(سلیم کوثر)» میں 24 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 32 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

جو سچی بات کرنا تھا، کہاں ہے وہیہاں اک شخص رہتا تھا، کہاں ہے وہ

یہاں کشتی کناروں کو ملاتی تھیاور اک دریا بھی بہتا تھا، کہاں ہے وہ

انہی بے نام گلیوں کے دریچوں میںچراغ شام جلتا تھا، کہاں ہے وہ

وہ چپ رہنے کا عادی تھا، مگر پہلےسخن آغاز کرتا تھا، کہاں ہے وہ

اَسے رستہ بدل لینا بھی آتا تھامگر وہ ساتھ چلتا تھا، کہاں ہے وہ

— سلیم کوثر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں