6 اشعار

بدن کا بوجھ لیے روح کا عذاب لیے

Badan ka bojh liye rooh ka azaab liye

بدن کا بوجھ لیے روح کا عذاب لیے

«بدن کا بوجھ لیے روح کا عذاب لیے» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

بدن کا بوجھ لیے روح کا عذاب لیےکدھر کو جاؤں طبیعت کا اضطراب لیے

یہی امید کہ شاید ہو کوئی چشم براہچراغ دل میں لیے ہاتھ میں گلاب لیے

عجب نہیں کہ مری طرح یہ اکیلی راتکسی کو ڈھونڈنے نکلی ہو ماہتاب لیے

سوا ہے شب کے اندھیروں سے دن کی تاریکیگئے وہ دن جو نکلتے تھے آفتاب لیے

کسی کے شہر میں مانند برگ آوارہپھرے ہیں کوچہ بہ کوچہ ہم اپنے خواب لیے

کہاں چلے ہو خیالوں کے شہر میں ثروتؔگئے دنوں کی شکستہ سی یہ کتاب لیے

— ثروت حسین