5 اشعار

باغ تھا مجھ میں اور فوارہ پھول میں تھا

Bagh tha mujh mein aur fawwara phool mein tha

باغ تھا مجھ میں اور فوارہ پھول میں تھا

«باغ تھا مجھ میں اور فوارہ پھول میں تھا» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔

باغ تھا مجھ میں اور فوارہ پھول میں تھامنظر یہ سارے کا سارا پھول میں تھا

راسیں تھامے ٹھہر گیا میں رستہ میںجیسے جنت کا نظارہ پھول میں تھا

تند ہوائیں لے گئیں اس کو ساتھ اپنےہاں یارو اک شخص ہمارا پھول میں تھا

جلتی آنکھ میں ریگ بیاباں اڑتی تھیآنکھ لگی تو میں دوبارہ پھول میں تھا

میں نے اس کو چوم کے دیکھا تھا ثروتؔبرف برستی تھی انگارہ پھول میں تھا

— ثروت حسین