5 اشعار

دشت لے جائے کہ گھر لے جائے

Dasht le jaye ke ghar le jaye

دشت لے جائے کہ گھر لے جائے

«دشت لے جائے کہ گھر لے جائے» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 32 سیکنڈ ہے۔

دشت لے جائے کہ گھر لے جائےتیری آواز جدھر لے جائے

اب یہی سوچ رہی ہیں آنکھیںکوئی تا حد نظر لے جائے

منزلیں بجھ گئیں چہروں کی طرحاب جدھر راہ گزر لے جائے

تیری آشفتہ مزاجی اے دلکیا خبر کون نگر لے جائے

سایۂ ابر سے پوچھو ثروتؔاپنے ہم راہ اگر لے جائے

— ثروت حسین