7 اشعار

پتھروں میں آئنا موجود ہے

Pattharon mein aaina maujood hai

پتھروں میں آئنا موجود ہے

«پتھروں میں آئنا موجود ہے» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

پتھروں میں آئنا موجود ہےیعنی مجھ میں دوسرا موجود ہے

زمزمہ پیرا کوئی تو ہے یہاںصحن گلشن میں ہوا موجود ہے

خواب ہو کر رہ گیا اپنے لیےجاگ اٹھنے کی سزا موجود ہے

اک سمندر ہے دل عشاق میںجس میں ہر موج بلا موجود ہے

آسمانی گھنٹیوں کے شور میںاس بدن کی ہر صدا موجود ہے

میں کتاب خاک کھولوں تو کھلےکیا نہیں موجود کیا موجود ہے

جنت ارضی بلاتی ہے تمہیںآؤ ثروتؔ راستہ موجود ہے

— ثروت حسین