9 اشعار

دن نکلتا ہے

Din nikalta hai

دن نکلتا ہے

«دن نکلتا ہے» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 20 سیکنڈ ہے۔

دن نکلتا ہے کسی اجلے کبوتر کی طرحآج کس نے میرے دل پر ہاتھ رکھا دھوپ کے پر کی طرح

گھنٹیاں بجنے لگیںایک دروازہ کھلا

آج میرے ہاتھ میں اک پھول ہےلوگ اتریں گے پہاڑوں سے کسی دن شہد کے پیالے لیے

گھڑ سواروں کے قدم سے جگمگائیں گے ببولہونٹھ کھولیں گے رسول

شاعری کا ساتھ ہےاک پری کا ہاتھ ہے

جس کی انگلی میں انگوٹھی جگمگاتی ہے کسی دل کی طرحدل کی تہہ میں اک سمندر ہے جسے بیدار کرنا ہے مجھے

پار کرنا ہے مجھےاس کنارے جاؤں گا

گیت اور امید لے کر آؤں گاتم یہاں اس سنہرے پل سے مجھے آواز دینا

زندگی اک شور ہے ہنستے ہوئے گھر کی طرحدن نکلتا ہے کسی اجلے کبوتر کی طرح

— ثروت حسین