19 اشعار

ایک نظم کہیں سے بھی شروع ہو سکتی ہے

Ek nazm kahin se bhi shuru ho sakti hai

ایک نظم کہیں سے بھی شروع ہو سکتی ہے

«ایک نظم کہیں سے بھی شروع ہو سکتی ہے» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 45 سیکنڈ ہے۔

ایک نظم کہیں سے بھی شروع ہو سکتی ہےجوتوں کی جوڑی سے

یا قبر سے جو بارش میں بیٹھ گئییا اس پھول سے جو قبر کی پائینی پر کھلا

ہر ایک کو کہیں نہ کہیں پناہ مل گئیچینٹیوں کو جائے نماز کے نیچے

اور لڑکیوں کو مری آواز میںمردہ بیل کی کھوپڑی میں گلہری نے گھر بنا لیا ہے

نظم کا بھی ایک گھر ہوگاکسی جلا وطن کا دل یا انتظار کرتی ہوئی آنکھیں

ایک پہیہ ہے جو بنانے والے سے ادھورا رہ گیا ہےاسے ایک نظم مکمل کر سکتی ہے

ایک گونجتا ہوا آسمان نظم کے لیے کافی ہوتا ہےلیکن یہ ایک ناشتہ دان میں با آسانی سما سکتی ہے

پھول آنسو اور گھنٹیاں اس میں پروئی جا سکتی ہیںاسے اندھیرے میں گایا جا سکتا ہے

تہواروں کی دھوپ میں سکھایا جا سکتا ہےتم اسے دیکھ سکتی ہو

خالی برتنوں خالی قبضوں اور خالی گہواروں میںتم اسے سن سکتی ہو

ہاتھ گاڑیوں اور جنازوں کے ساتھ چلتے ہوئےتم اسے چوم سکتی ہو

بندرگاہوں کی بھیڑ میںتم اسے گوندھ سکتی ہو

پتھر کی ماند میںتم اسے اگا سکتی ہو

پودینے کی کیاریوں میںایک نظم

کسی بھی رات سے تاریک نہیں کی جا سکتیکسی تلوار سے کاٹی نہیں جا سکتی

کسی دیوار میں قید نہیں کی جا سکتیایک نظم

کہیں بھی ساتھ چھوڑ سکتی ہےبادل کی طرح

ہوا کی طرحراستے کی طرح

باپ کے ہاتھ کی طرح

— ثروت حسین