27 اشعار

درخت میرے دوست

Darakht mere dost

درخت میرے دوست

«درخت میرے دوست» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

درخت! میرے دوستتم مل جاتے ہو کسی نہ کسی موڑ پر

اور آسان کر دیتے ہو سفرتمہارے پیر کی انگلیاں

جمی رہیں پاتال کے بھیدوں پرقائم رہے میرے دوست

تمہارے تنے کی متانت اور قوتدھوپ اور بارش تمہیں اپنے تحفوں سے نوازتی رہے

تم بہت پروقار اور سادہ ہومیرے تھیلے کو جاننا چاہتے ہو

ضرور.... یہ لو میں اسے کھولتا ہوںروٹیاں دعائیں اور نظمیں

میرے پاس اس سے زیادہ کچھ نہیںایک شاعر کے پاس اس سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا

دوست دکھ دینا تم نے سیکھا ہی نہیںتم نے نہ تو مجھ سے شاعری کا مطلب پوچھا

اور نہ کبھی میرے مطالعے پر شک کیاایسا ہی ہونا چاہئے دوستوں کو

اگر میرے پاس اک اور زندگی ہوتی توتو میں اپنی پہلی زندگی تمہاری جڑوں پر گزار دیتا

مگر میں گھر سے خاندان بھر خوشیوں کے لیے نکلا ہوںاور وہاں میرا انتظار کیا جا رہا ہے

تم نے میرے دوستہاں تم نے

بہت کچھ سکھایا ہے مجھےمثلاً زمین اور آسمانی بجلی

اور ہوااور انتظار

اور دوسروں کے لیے زندہ رہنابہت قیمتی ہیں یہ باتیں

میں کیا دے سکتا ہوں اس فیاضی کا جوابمیرے پاس تمہارے لیے

ایک روٹی اور دعا ہےروٹی: تمہاری چیونٹیوں کے لیے

دعا تمہارے آخری دن کے لیےمجھے معلوم ہے تم نے کلہاڑی کے مصافحے

اور آری کی ہنسی سے کبھی خوف نہیں کھایامگر تم روک نہیں سکتے انہیں

کوئی بھی نہیں روک سکتاخدا کرے

خدا کرے تمہاری شاخوں سے ایک جھونپڑی بنائی جائےبازوؤں کے گھیرے میں نہ آنے والے تمہارے

تنے کی لکڑیبہت کافی ہے

دو پہیوں اور ایک کشتی کے لیےدوست: ہم پھر ملیں گے

مسافر اور چھکڑامسافر اور کشتی

کہیں نہ کہیں ہم پھر ایک ساتھ ہوں گےکہیں نہ کہیں

ایک ساتھ.... ہم سامنا کریں گےہوا کا اور راستوں کا

مسرت اور موت کا....

— ثروت حسین