5 اشعار

ہوا و ابر کو آسودۂ مفہوم کر دیکھوں

Hawa-o-abr ko aasooda-e-mafhoom kar dekhun

ہوا و ابر کو آسودۂ مفہوم کر دیکھوں

«ہوا و ابر کو آسودۂ مفہوم کر دیکھوں» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

ہوا و ابر کو آسودۂ مفہوم کر دیکھوںشروع فصل گل ہے ان لبوں کو چوم کر دیکھوں

کہاں کس آئنے میں کون سا چہرہ دمکتا ہےذرا حیرت سرائے آب و گل میں گھوم کر دیکھوں

مرے سینے میں دل ہے یا کوئی شہزادۂ خود سرکسی دن اس کو تاج و تخت سے محروم کر دیکھوں

گزر گاہیں جہاں پر ختم ہوتی ہیں وہاں کیا ہےکوئی رہرو پلٹ کر آئے تو معلوم کر دیکھوں

بہت دن دشت و در میں خاک اڑاتے ہوئے ثروتؔاب اپنے صحن میں اپنی فضا میں جھوم کر دیکھوں

— ثروت حسین