5 اشعار

یک بیک منظر ہستی کا نیا ہو جانا

Yak ba yak manzar-e-hasti ka naya ho jaana

یک بیک منظر ہستی کا نیا ہو جانا

«یک بیک منظر ہستی کا نیا ہو جانا» ثروت حسین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔

یک بیک منظر ہستی کا نیا ہو جانادھوپ میں سرمئی مٹی کا ہرا ہو جانا

صبح کے شہر میں اک شور ہے شادابی کاگل دیوار، ذرا بوسہ نما ہو جانا

کوئی اقلیم نہیں میرے تصرف میں مگرمجھ کو آتا ہے بہت فرماں روا ہو جانا

زشت اور خوب کے مابین جلایا میں نےجس گل سرخ کو تھا شعلہ نما ہو جانا

چشم کا آئینہ خانے میں پہنچنا ثروتؔدل درویش کا مائل بہ دعا ہو جانا

— ثروت حسین