15 اشعار

آ اپنے دل میں میری تمنا لیے ہوئے

Aa apne dil mein meri tamanna liye hue

آ اپنے دل میں میری تمنا لیے ہوئے

«آ اپنے دل میں میری تمنا لیے ہوئے» سیماب اکبر آبادی کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی» میں 19 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 48 سیکنڈ ہے۔

آ اپنے دل میں میری تمنا لیے ہوئےشوق کلام و ذوق تماشا لیے ہوئے

دل لے کے خود کو رہتے ہیں کیا کیا لیے ہوئےشیشے وہی تو ہیں مری دنیا لیے ہوئے

محرومیوں پہ دل کی مٹا جا رہا ہوں میںہے خاک تیرا نقش کف پا لیے ہوئے

تاریکی فضا کا شکایت گزار ہوںسینے میں آفتاب سویدا لیے ہوئے

پہلے مرے سہارے پہ تھا کار و بار زیستاب میں ہوں زندگی کا سہارا لیے ہوئے

جی چاہتا ہے عمر محبت نہ ختم ہومر جائیے کسی کی تمنا لیے ہوئے

اپنا وقار عشق کبھی آزما کے دیکھہوگی جبین حسن بھی سجدا لیے ہوئے

خوش ہوں کہ جیسے گود میں ہے لعل شب چراغدامن میں اپنے لالۂ صحرا لیے ہوئے

نعش رواں ہوں زیست ہے میری فریب زیستپھرتا ہوں زندگی کا جنازہ لیے ہوئے

جوش جنوں میں عالم وارفتگی نہ پوچھصحرا سے ہم گزر گئے صحرا لیے ہوئے

سر ان کے آستاں پہ جو پہنچے تو ہو یقیںسودا لیے ہوئے ہے کہ سجدا لیے ہوئے

ہم طور پر گئے بھی تو اس شان سے گئےموسیٰ کھڑے رہے ید بیضا لیے ہوئے

اے حسن میرے حال میں تو بھی شریک ہودونوں جہاں کا بار ہوں تنہا لیے ہوئے

بے پردہ بے تعین و بے نام دیکھ اسےوہ تو ہے صرف نام کا پردا لیے ہوئے

سیمابؔ قدرداں ہیں مرے خان جانسٹھحاضر ہوا ہوں فکر کا ہدیا لیے ہوئے

— سیماب اکبر آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں