15 اشعار

آنکھ سے ٹپکا جو آنسو وہ ستارا ہو گیا

Aankh se tapka jo aansoo woh sitaara ho gaya

آنکھ سے ٹپکا جو آنسو وہ ستارا ہو گیا

«آنکھ سے ٹپکا جو آنسو وہ ستارا ہو گیا» سیماب اکبر آبادی کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی» میں 19 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

آنکھ سے ٹپکا جو آنسو وہ ستارا ہو گیامیرا دامن آج دامان ثریا ہو گیا

اس کے جی میں کیا یہ آئی یہ اسے کیا ہو گیاخود چھپا عالم سے اور خود عالم آرا ہو گیا

بندۂ معنیٰ کہاں صورت کا بندا ہو گیاسوچتا ہوں مجھ کو کیا ہونا تھا میں کیا ہو گیا

پھر تصور نے بڑھا دی نالۂ موزوں کی لےپھر سواد فکر سے اک شعر پیدا ہو گیا

اب کہاں مایوسیوں میں جھلکیاں امید کیوہ بھی کیا دن تھے کہ تیرا غم گوارا ہو گیا

جان دے دی میں نے تنگ آ کر وفور درد سےآج منشائے جفائے دوست پورا ہو گیا

برہمن کہتا تھا برہم شیخ بول اٹھا احدحرف کے اک پھیر سے دونوں میں جھگڑا ہو گیا

وحدت و کثرت کے جلوے خلقت انساں میں دیکھایک ذرہ اس قدر پھیلا کہ دنیا ہو گیا

بربریت کی جہاں میں گرم بازاری ہوئیآدمیت کی رگوں میں خون ٹھنڈا ہو گیا

آشیاں بننے نہ پایا تھا کہ بجلی گر پڑیباغ ابھی بسنے نہ پایا تھا کہ صحرا ہو گیا

آ گیا سیلاب بالیں تک وفور گریہ سےرحم کر یا رب کہ پانی سر سے اونچا ہو گیا

اتفاق وقت تھا اپنا فروغ آشیاںجب کوئی جگنو چمک اٹھا اجالا ہو گیا

دل کھنچا جتنا قفس میں آشیانے کی طرفدور اتنا ہی قفس سے آشیانا ہو گیا

ہم مسافر تھے ہمارا مستقر کوئی نہ تھارات جب آئی جہاں آئی بسیرا ہو گیا

ہو گئے رخصت رئیسؔ و عالیؔ و واصفؔ نثارؔرفتہ رفتہ آگرہ سیمابؔ سونا ہو گیا

— سیماب اکبر آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں