آ اپنے دل میں میری تمنا لیے ہوئے
کلام: سیماب اکبر آبادی
آ اپنے دل میں میری تمنا لیے ہوئےشوق کلام و ذوق تماشا لیے ہوئے
دل لے کے خود کو رہتے ہیں کیا کیا لیے ہوئےشیشے وہی تو ہیں مری دنیا لیے ہوئے
ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی
مہمان شاعر: سیماب اکبر آبادی
آ اپنے دل میں میری تمنا لیے ہوئےشوق کلام و ذوق تماشا لیے ہوئے
دل لے کے خود کو رہتے ہیں کیا کیا لیے ہوئےشیشے وہی تو ہیں مری دنیا لیے ہوئے
حسن کے دل میں جگہ پاتے ہی دیوانہ بنےہم ابھی راز بنے ہی تھے کہ افسانہ بنے
کہہ دیا ہے کہ ملو ہم سے تو یکسو ہو کراب نبھے یا نہ نبھے ان سے بنے یا نہ بنے