6 اشعار

دل کی بساط کیا تھی نگاہ جمال میں

Dil ki basaat kya thi nigaah-e-jamaal mein

دل کی بساط کیا تھی نگاہ جمال میں

«دل کی بساط کیا تھی نگاہ جمال میں» سیماب اکبر آبادی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی» میں 19 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

دل کی بساط کیا تھی نگاہ جمال میںاک آئینہ تھا ٹوٹ گیا دیکھ بھال میں

دنیا کرے تلاش نیا جام جم کوئیاس کی جگہ نہیں مرے جام سفال میں

آزردہ اس قدر ہوں سراب خیال سےجی چاہتا ہے تم بھی نہ آؤ خیال میں

دنیا ہے خواب حاصل دنیا خیال ہےانسان خواب دیکھ رہا ہے خیال میں

اہل چمن ہمیں نہ اسیروں کا طعن دیںوہ خوش ہیں اپنے حال میں اہم اپنی چال میں

سیمابؔ اجتہاد ہے حسن طلب مراترمیم چاہتا ہوں مذاق جمال میں

— سیماب اکبر آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں