16 اشعار

میری رفعت پر جو حیراں ہے تو حیرانی نہیں

Meri rif'at par jo hairan hai to hairani nahin

میری رفعت پر جو حیراں ہے تو حیرانی نہیں

«میری رفعت پر جو حیراں ہے تو حیرانی نہیں» سیماب اکبر آبادی کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی» میں 19 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

میری رفعت پر جو حیراں ہے تو حیرانی نہیںتو ابھی انسان کی عظمت کا عرفانی نہیں

اور یہ کیا ہے ضبط جو سوز پنہانی نہیںآگ روشن دل میں ہے چہرے پہ تابانی نہیں

پھول کے پتے بکھر کر اک فسانہ کہہ گئےجس کی ہو ترتیب ممکن وہ پریشانی نہیں

مجھ پر اک الزام ہے قید قفس وہ بھی غلطجس کی نیت میں ہو آزادی وہ زندانی نہیں

جوش گریہ اس پر آہوں کی یہ سیلابی ہواکون سی ہے موج اشک ایسی جو طوفانی نہیں

راز یہ مجھ پر شکست غنچہ و گل سے کھلاحسن بھی تو بے نیاز چاک دامانی نہیں

خواہشوں کے ساتھ اپنے نفس کو بھی کر فنازندگی میں اس سے بہتر کوئی قربانی نہیں

اتفاقات محبت نے یہ ثابت کر دیاوہ بھی پیشانی میں ہے شاید جو پیش آنی نہیں

دولت کونین سے بھی ہے گراں تر اک سکوںدل ہو مستغنی تو پروائے جہاں بانی نہیں

جاودانی ہوں میں اے دنیا پرستش کر مرییہ مسلم ہے کہ تو فانی ہے میں فانی نہیں

حوصلوں کے ساتھ طے کر راہ دشوار حیاتحل تو ہوں گی مشکلیں لیکن بہ آسانی نہیں

دیکھ اے ساقی قناعت کی طرب افشانیاںآب کوثر ہے کٹورے میں مرے پانی نہیں

ہے مری نظروں میں انجام بہار گلستاںاب مرے سر میں ہوائے گل بدامانی نہیں

بہہ چکا ہے خون پانی کی طرح انسان کامعتدل پھر بھی مزاج عالم فانی نہیں

کر نہ اے کنج لحد زحمت مرے آرام کیمیں مجاہد ہوں مجھے خوئے تن آسانی نہیں

کر رہا ہوں نظم اے سیمابؔ قرآن مجیداور یہ کیا ہے اگر تائید یزدانی نہیں

— سیماب اکبر آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں