7 اشعار

شکریہ ہستی کا! لیکن تم نے یہ کیا کر دیا

Shukriya hasti ka! Lekin tum ne ye kya kar diya

شکریہ ہستی کا! لیکن تم نے یہ کیا کر دیا

«شکریہ ہستی کا! لیکن تم نے یہ کیا کر دیا» سیماب اکبر آبادی کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی» میں 19 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

شکریہ ہستی کا! لیکن تم نے یہ کیا کر دیاپردے ہی پردے میں اپنا راز افشا کر دیا

مانگ کر ہم لائے تھے اللہ سے اک درد عشقوہ بھی اب تقدیر نے اوروں کا حصہ کر دیا

دو ہی انگارے تھے ہاتھوں میں خدائے عشق کےایک کو دل ایک کو میرا کلیجا کر دیا

جب تجلی ان کی برق ارزانیوں پر آ گئیآبلے سے دل کے پیدا طور سینا کر دیا

اپنی اس وارفتگئ شوق کا ممنون ہوںبارہا مجھ کو بھری محفل میں تنہا کر دیا

واقعات عشق کا تھا لمحہ لمحہ اک صدیہر نفس میں میں نے اک ارمان پورا کر دیا

مرحمت فرما کے اے سیمابؔ غم کی لذتیںزیست کی تلخی کو فطرت نے گوارا کر دیا

— سیماب اکبر آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں