زندان کائنات میں محصور کر دیا
کلام: سیماب اکبر آبادی
زندان کائنات میں محصور کر دیامحفل سے اپنی تم نے بہت دور کر دیا
آتے ہو دینے دعوت دار و رسن ہمیںجب ہم نے ترک شیوۂ منصور کر دیا
ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی
مہمان شاعر: سیماب اکبر آبادی
زندان کائنات میں محصور کر دیامحفل سے اپنی تم نے بہت دور کر دیا
آتے ہو دینے دعوت دار و رسن ہمیںجب ہم نے ترک شیوۂ منصور کر دیا
ضبط سے نا آشنا ہم صبر سے بیگانہ ہمکیوں کسی سے مانگتے جائیں چراغ خانہ ہم
خود ہی ساز بے خودی کو چھیڑ دیتے ہیں کبھیخود ہی سنتے ہیں حدیث ساغر و پیمانہ ہم