7 اشعار

دور اس سرحد دل پر بھی اترنا ہو گا

Door us sarhad-e-dil par bhī utarnā ho gā

دور اس سرحد دل پر بھی اترنا ہو گا

«دور اس سرحد دل پر بھی اترنا ہو گا» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

دور اس سرحد دل پر بھی اترنا ہو گادشت جیسا بھی سہی پار تو کرنا ہو گا

عشق کافی نہیں اندر کی سدا سننے کویہ خلا اور کسی طور سے بھرنا ہو گا

جادۂ دل سے وہ سب لوگ تو ہو گزرے ہیںاس گزر گاہ کو اب خود بھی گزرنا ہو گا

زینۂ خواب سے اتروں گا میں لمحہ لمحہاور زینے کو مرے ساتھ اترنا ہو گا

اپنی یہ وضع نہیں تھی مگر اے زخم ہنرکیا خبر تھی ترا انکار بھی کرنا ہو گا

وقت گزرے چلا جاتا ہے بس اپنی دھن میںاک صدا آئے گی اور اس کو ٹھہرنا ہو گا

دل کی جانب چلا آتا ہے جو دریائے فراقہو نہ ہو آج اسے یاں سے گزرنا ہو گا

— شاہین عباس