5 اشعار

خاک اور خواب کی دہلیز سے باہر ہو کر

Khaak aur khwaab kī dehleez se bāhar ho kar

خاک اور خواب کی دہلیز سے باہر ہو کر

«خاک اور خواب کی دہلیز سے باہر ہو کر» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 35 سیکنڈ ہے۔

خاک اور خواب کی دہلیز سے باہر ہو کرہم نے منظر کو جلا دی پس منظر ہو کر

کیسی آسانی میں ہیں دونوں کنارے دل کےموج انجام کو پہنچی ہے سمندر ہو کر

مسئلہ آن پڑا ہے قد و قامت کا اسےدل کہ دم لے گا کہیں درد برابر ہو کر

وہی آنسو تر و تازہ خبر آرا دیکھےجب بھی دیکھا ہے کبھی غار کے اندر ہو کر

نقص جاتے رہے ڈوبے ہوئے دن کے شاہینؔشام آنکھوں سے نکل آئی ہے بہتر ہو کر

— شاہین عباس