6 اشعار

عشق میں دوہری مشقت کی ہے

Ishq meñ dohrī mashaqqat kī hai

عشق میں دوہری مشقت کی ہے

«عشق میں دوہری مشقت کی ہے» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 36 سیکنڈ ہے۔

عشق میں دوہری مشقت کی ہےحالت ہجر میں ہجرت کی ہے

ایسی ویرانی میں کرتے بھی تو کیایہ بھی کچھ کم ہے کہ وحشت کی ہے

بات میری نہیں اے دربدریبات یہ بار امانت کی ہے

میں کہ منظر میں ہوں منظر کی طرحیہ بھی اک شکل سکونت کی ہے

پیکر گل کی طلب تھی لیکنپرتو گل پہ قناعت کی ہے

زخم کی لو پہ اثر رکھتا ہوںاس دیے نے مری بیعت کی ہے

— شاہین عباس