6 اشعار

اک ستارہ کے قریب آئیں گے ہم اور ابھی

Ek sitara ke qareeb aayenge hum aur abhi

اک ستارہ کے قریب آئیں گے ہم اور ابھی

«اک ستارہ کے قریب آئیں گے ہم اور ابھی» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

اک ستارہ کے قریب آئیں گے ہم اور ابھیلو سر طاق نظر لائیں گے ہم اور ابھی

خاک تا خاک ابھی ایک سفر اور بھی ہےخواب در خواب ہوا کھائیں گے ہم اور ابھی

تجھ کو باطن کے بھنور سے ہی رہا کر دیں گےاپنی گہرائی میں کچھ جائیں گے ہم اور ابھی

پے بہ پے ڈھلتی ہوئی دھوپ سے کہئے کہ یہ ضوپرچم جاں ہے جو لہرائیں گے ہم اور ابھی

دور ہی دور سے دریا بھی سلامی دے گاموج میں گام بہ گام آئیں گے ہم اور ابھی

خود میں اک سمت جلائے چلے جائیں گے چراغاک طرف شام کئے جائیں گے ہم اور ابھی

— شاہین عباس