6 اشعار

گھر سے گھر گزرا گلی میں سے گلی جانے لگی

Ghar se ghar guzrā galī meñ se galī jāne lagī

گھر سے گھر گزرا گلی میں سے گلی جانے لگی

«گھر سے گھر گزرا گلی میں سے گلی جانے لگی» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

گھر سے گھر گزرا گلی میں سے گلی جانے لگیآدمی کی پھر کمی محسوس کی جانے لگی

میں تو جیسے اس کنارے ہی کا ہو کر رہ گیاتم سے اچھا تو مجھے یہ لہر پی جانے لگی

یہ بچھونا خاک کا یہ اوڑھنی افلاک کیکم سے کم یہ تو ہوا کروٹ سہی جانے لگی

آخر آخر کتنے سیدھے ہو گئے حد و حسابجو گھڑی آنے لگی واپس وہی جانے لگی

نسخہ اچھا تھا سو میں بھی کیسا اچھا ہو گیاگھونٹ گھونٹ اک آنکھ میرا زہر پی جانے لگی

آر پار اب اور کیا اس رات میں کھل کھیلئےروشنی آنے لگی اور روشنی جانے لگی

— شاہین عباس