6 اشعار

خوابیدہ ہیں اس لمس میں امکان کچھ ایسے

Khwaabīda haiñ us lams meñ imkān kuch aise

خوابیدہ ہیں اس لمس میں امکان کچھ ایسے

«خوابیدہ ہیں اس لمس میں امکان کچھ ایسے» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

خوابیدہ ہیں اس لمس میں امکان کچھ ایسےمیں حرف دگر ہوں مجھے پہچان کچھ ایسے

اس بار سبھی چپ ہیں مجھے روکنے والےمیں سب کو کیے جاتا ہوں حیران کچھ ایسے

یہ جیسے مرے رنگ رواں کی نگراں ہےہر آن مرا دھوپ میں ہے دھیان کچھ ایسے

میں جیسے کئی خاک بہ سر خواب سفر ہوںرستے میں پڑا ہے مرا سامان کچھ ایسے

ہم فرد جنوں کھول کے مشکل میں نہ پڑ جائیںاس فرد میں کر رکھی ہے میزان کچھ ایسے

آئینوں کے اس کرب میں ہم اپنی کہیں کیاآئینہ ہے آئینے پہ حیران کچھ ایسے

— شاہین عباس