7 اشعار

کچھ روشنی تھی چاروں طرف جو کہ رواں کی

Kuch roshni thi charon taraf jo ke rawaan ki

کچھ روشنی تھی چاروں طرف جو کہ رواں کی

«کچھ روشنی تھی چاروں طرف جو کہ رواں کی» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

کچھ روشنی تھی چاروں طرف جو کہ رواں کیپھر یاد نہیں ہم نے تری آگ کہاں کی

دو ایسے دنوں میں سے میں یوں گزرا کہ مجھ پرکچھ دھوپ یہاں کی پڑی کچھ دھوپ وہاں کی

جاتا ہوں کہ آ جائے گزر جانا مجھے بھیرفتار بڑھا آتا ہوں خاک گزراں کی

اس پار رصد بھیجتے تھے ہم کھڑے اس پارآواز یہاں کی کبھی خاموشی یہاں کی

باہر کی بھی ہو جاتی ہے اندر ہی خبر کچھتصویر لگا رکھی ہے اک خواب رواں کی

کچھ طے نہیں دونوں میں کہ یاں کون ہے تنہاتنہائی مکیں کی ہے کہ تنہائی مکاں کی

باتیں ہی مرے منہ کو نہ لگتیں جو لگیں توہر نقل اتار آیا ہوں میں کون و مکاں کی

— شاہین عباس