7 اشعار

سوچی تھی اک دعا کی رات لکھے تھے کچھ دعا کے دن

Sochi thi ik dua ki raat likhe the kuch dua ke din

سوچی تھی اک دعا کی رات لکھے تھے کچھ دعا کے دن

«سوچی تھی اک دعا کی رات لکھے تھے کچھ دعا کے دن» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

سوچی تھی اک دعا کی رات لکھے تھے کچھ دعا کے دنرات بنی نہ دن بنے چلتے بنے بتا کے دن

تہ میں جو ہمکنار تھے ان کا ملال وقت تھاآتا نہیں تھا آ کے دن جاتا نہیں تھا جا کے دن

صبح گھروں سے جائیں گے راکھ اڑانے وقت کیآگ جلائیں گے یہ لوگ شام کو پھر جلا کے دن

ایک لکیر شام کی کہتی تھی درمیاں کی باتخلق خدا کا ایک دن باقی ہیں سب خدا کے دن

وقت کو خرچ کم کیا یاں پہ بھی اور وہاں پہ بھیہم نے تجھے بچا لیا اپنے تئیں بچا کے دن

مسئلہ جوں کا توں رہا پھر بھی میں پر سکوں رہاجاگا جلا جلا کے دن سویا بجھا بجھا کے دن

وقت تو بن نہیں سکا واقعہ بن گیا ضرورٹوٹے تو جڑ نہیں سکے ہم سے جزا سزا کے دن

— شاہین عباس