جل بھی چکے پروانے ہو بھی چکی رسوائی
کلام: شہزاد احمد
جل بھی چکے پروانے ہو بھی چکی رسوائیاب خاک اڑانے کو بیٹھے ہیں تماشائی
اب دل کو کسی کروٹ آرام نہیں ملتااک عمر کا رونا ہے دو دن کی شناسائی
رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد
مہمان شاعر: شہزاد احمد
جل بھی چکے پروانے ہو بھی چکی رسوائیاب خاک اڑانے کو بیٹھے ہیں تماشائی
اب دل کو کسی کروٹ آرام نہیں ملتااک عمر کا رونا ہے دو دن کی شناسائی