شہر کا شہر اگر آئے بھی سمجھانے کو
کلام: شہزاد احمد
شہر کا شہر اگر آئے بھی سمجھانے کواس سے کیا فرق پڑے گا ترے دیوانے کو
کیا کوئی کھیل ہے بے نام و نشاں ہو جاناویسے تو شمع بھی تیار ہے جل جانے کو
رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد
مہمان شاعر: شہزاد احمد
شہر کا شہر اگر آئے بھی سمجھانے کواس سے کیا فرق پڑے گا ترے دیوانے کو
کیا کوئی کھیل ہے بے نام و نشاں ہو جاناویسے تو شمع بھی تیار ہے جل جانے کو
باغ کا باغ اجڑ گیا کوئی کہو پکار کرکس نے شفق پہ مل دیے پھولوں کے رنگ اتار کر
شام کو موجۂ ہوا جانب دشت لے اڑےصبح چمن میں آ گئے خاک پہ شب گزار کر
ویسے تو اک دوسرے کی سب سنتے ہیںجن کو سنانا چاہتا ہوں کب سنتے ہیں
اب بھی وہی دن رات ہیں لیکن فرق یہ ہےپہلے بولا کرتے تھے اب سنتے ہیں