بے شمار آنکھیں
کلام: شہزاد احمد
آسماں کے چہرے پر بے شمار آنکھیں ہیںبے شمار آنکھوں میں بے حساب منظر ہیں
منظروں کے آئینے اپنے اپنے چہروں کو خود ہی دیکھ سکتے ہیںخود ہی جان سکتے ہیں اپنی بے نوائی کو
رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد
مہمان شاعر: شہزاد احمد
آسماں کے چہرے پر بے شمار آنکھیں ہیںبے شمار آنکھوں میں بے حساب منظر ہیں
منظروں کے آئینے اپنے اپنے چہروں کو خود ہی دیکھ سکتے ہیںخود ہی جان سکتے ہیں اپنی بے نوائی کو
دمکتے سورج کی آنکھ کھلنے کا وقت آیازمیں کے لاوے نے کروٹیں لیں
فلک نے دیکھا تو کانپ اٹھایہ سرپھرے لوگ کون سے ہیں ہوا نے پوچھا
ایک پل میں ختم ہو سکتی ہے وسعت دہر کیچوٹیوں سے چوٹیوں تک راستہ
آگے خلااور خلا کی تیرگی میں دور سے آئی ہوئی کرنوں کے رنگوں کی نمود