ریکارڈ شدہ ایکس سپیس 11 جنوری 2026

رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد

مہمان شاعر: شہزاد احمد

14
سپیکرز
280
سامعین

سپیکرز

کسی سپیکر کو منتخب کریں — ان کا پیش کردہ کلام نیچے

ایمان کا پیش کردہ کلام

بے شمار آنکھیں

کلام: شہزاد احمد

آسماں کے چہرے پر بے شمار آنکھیں ہیںبے شمار آنکھوں میں بے حساب منظر ہیں

منظروں کے آئینے اپنے اپنے چہروں کو خود ہی دیکھ سکتے ہیںخود ہی جان سکتے ہیں اپنی بے نوائی کو

مکمل کلام پڑھیں ‹

زہریلی تخلیق

کلام: شہزاد احمد

ایک پل میں ختم ہو سکتی ہے وسعت دہر کیچوٹیوں سے چوٹیوں تک راستہ

آگے خلااور خلا کی تیرگی میں دور سے آئی ہوئی کرنوں کے رنگوں کی نمود

مکمل کلام پڑھیں ‹